مقامی ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

کوئٹہ سول ہسپتال کی گائنی او پی ڈی میں صرف ایک الٹراساؤنڈ مشین، خواتین مریضوں کو شدید مشکلات

کوئٹہ (ویب نیوز) کوئٹہ کے سول ہسپتال میں گائنی او پی ڈی میں الٹراساؤنڈ کی محدود سہولت کے باعث خواتین مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق مذکورہ شعبے میں مبینہ طور پر صرف ایک الٹراساؤنڈ مشین موجود ہے، جس کے باعث روزانہ مریضوں کے رش کے دوران خواتین کو معائنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خواتین مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ گائنی او پی ڈی میں روزانہ بڑی تعداد میں خواتین علاج اور طبی معائنے کے لیے آتی ہیں اور بہت سے مریضوں کو ڈاکٹر الٹراساؤنڈ کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم ایک ہی مشین ہونے کی وجہ سے تمام مریضوں کا بروقت معائنہ ممکن نہیں رہتا۔ دور دراز علاقوں سے کوئٹہ علاج کے لیے آنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ سفر اور دیگر اخراجات کے علاوہ الٹراساؤنڈ کی محدود سہولت کے باعث انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات معائنہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دوبارہ ہسپتال آنا پڑتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور ماں و بچے کی صحت کے معاملات میں بروقت تشخیص انتہائی اہم ہے اور الٹراساؤنڈ کی محدود سہولت کے باعث مریضوں کی بروقت طبی تشخیص متاثر ہو سکتی ہے۔ خواتین مریضوں اور عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سول ہسپتال کی گائنی او پی ڈی کے لیے فوری طور پر مزید الٹراساؤنڈ مشینیں فراہم کی جائیں، موجودہ طبی آلات کو بھی فعال رکھا جائے اور خواتین مریضوں کے لیے بروقت تشخیص کی سہولت یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور بالخصوص گائنی شعبوں کے لیے جدید اور بروقت تشخیصی آلات کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔