مقامی ۹ ستمبر ۲۰۲۶

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے 22 افغان طلبہ کو فارغ کیے جانے کی شدید مذمت

کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی تنظیم نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی سے متعلق احکامات اور اس کے نتیجے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے 22 افغان طلبہ کو فارغ کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمن، انسانیت سوز اور طلبہ کے بنیادی تعلیمی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مرکزی بیان میں کہا گیا کہ جنگ، بدامنی اور سیاسی حالات سے متاثرہ افغان طلبہ نے تعلیم جاری رکھنے کے لیے پاکستان کا رخ کیا اور برسوں محنت کرکے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی، ایسے طلبہ کو تعلیم کے آخری مراحل میں اچانک اداروں سے نکال دینا ان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل جیسے اداروں کا مقصد طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنا اور معیار بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں تعلیم سے محروم کرنا۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے مطالبہ کیا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے فارغ کیے گئے 22 افغان طلبہ سمیت تمام متاثرہ افغان میڈیکل طلبہ کو فوری طور پر تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے، ان کے تعلیمی سال اور مستقبل کو محفوظ بنایا جائے اور متعلقہ پالیسی فیصلوں پر نظرثانی کی جائے۔ تنظیم نے کہا کہ تعلیم کسی قوم، نسل یا شہریت کی بنیاد پر محدود نہیں ہونی چاہیے اور وفاقی حکومت، اعلیٰ تعلیمی کمیشن، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ جامعات افغان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔