مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

ڈاکٹر ماہ نور ناصر واقعہ کیخلاف 12جون سے ینگ ڈاکٹرز کا مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان

کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جو دلخراش اور ناقابل افسوس واقعہ رونما ہوا جس میں ڈاکٹرماہ نور ناصر پر ایک درندے نے تیزاب پھینک کر بری طرح متاثر کیا اس واقعہ کے خلاف ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افیسران نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیقات کیا ورنہ اس حوالے سے ہمارے موقف سنے جس پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صاف و شفاف انکوائری کمیٹی بنا کر تحقیقات کیے جائیں اس واقعہ کے خلاف 12جون کو شیخ زید ہسپتال سے کوئٹہ پریس کلب تک ریلی نکالی جائے گی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کریں گے‘یہ بات انہوں نے سول ہسپتال میں ڈاکٹر بہار شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ کے اعلیٰ افیسران متاثرہ خاندان کے ساتھ تعاون یا تحقیقات نہیں کرسکتے تو کم ازکم غلط بیانی سے کام تونہیں لیا جائے آج ڈی آئی جی نے ایک خبر شائع کیا اور موقف اختیار کیا کہ واقعہ رشتے کا تھا رشتہ نہ دینے پر متعلقہ شخص نے تیزاب کا استعمال کیا جو انتہائی قابل افسوس اور غلط بیانی ہے جسے ہم اور متاثرہ ڈاکٹر کے خاندان یکسر مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ تیزاب گردی کا واقعہ قومی المیہ ہے حکومت کو ہماری بات سننی چاہیے تھی حکومت ہمارے تحفظات سنے کی بجائے بجٹ میں مصروف ہے ہمارا احتجاج کوئٹہ تک محدود تھا اب احتجاج پورے صوبے میں ہوگاہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز سمیت تمام عملہ غیر محفوظ ہے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب گردی کے واقعہ کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مزید غفلت برداشت نہیں کی جائے گی سیکریٹری صحت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے عملہ غیر محفوظ ہوچکا ہے ہمارے مطالبات جائز ہیں انہو ں نے کہاکہ سیکرٹری صحت اور ایم ایس سول ہسپتال کو عہدوں سے ہٹایا جائے پنجاب حکومت کے طرز پر ایکٹ پاس کرکے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے کوئٹہ کے تمام نجی ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز اور پی ایم اے ممبران مفت علاج کریں گے اب تک ہم سے کسی حکومتی نمائندے نے رابطہ نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ 12 جون سے ینگ ڈاکٹرز مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کریں گے ڈی آئی جی نے عجیب سا بیان دیا ہے کہ ملزم نے متاثرہ ڈاکٹر کے گھر رشتہ بھیجا تھاڈی آئی جی کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو نتیجہ ہوگا قابل قبول ہوگا۔