چمن (ویب نیوز) ضلع چمن پولیس نے کالج روڈ پر فائرنگ کے نتیجے میں نذر محمد ولد نیک محمد قوم ادوزئی کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مبینہ طور پر ملوث ملزم قدرت اللہ کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے پسٹل برآمد کرلیا۔ پولیس کے مطابق 9 ستمبر 2026 کو کالج روڈ چمن پر فائرنگ کے واقعے میں نذر محمد شدید زخمی ہوئے تھے جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت کے پیش نظر کوئٹہ ریفر کیا گیا، تاہم وہ سرانان کے قریب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 93/2026 بجرم دفعہ 302 ق د نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ کاریزات میں درج کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین نے ڈی سی کمپلیکس کے سامنے میت رکھ کر احتجاج کیا، تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ضلع چمن اعتزاز عارف نے ڈی ایس پی/ایس ڈی پی او سرکل چمن کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے کر ملزمان کی گرفتاری اور کیس کی مؤثر تفتیش کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔ پولیس کے مطابق جے آئی ٹی نے پیشہ ورانہ تفتیش، دستیاب شواہد اور مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں 14 ستمبر 2026 کو کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم قدرت اللہ کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے پسٹل برآمد کیا۔ اس حوالے سے ڈی ایس پی مجیب الرحمن، انسپکٹر جہانگیر خان کاکڑ اور ایس ایچ او کاریزات عبدالجبار اچکزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کیا۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں گرفتار مبینہ ملزم مقتول کا بھتیجا بتایا جاتا ہے، جبکہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور قتل کے محرکات، شواہد اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ ایس پی ضلع چمن اعتزاز عارف نے جے آئی ٹی کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی، عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
