کوئٹہ(ویب نیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے پر غور شروع کردیا ہے، جس کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے کے چار دن کام، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیلات، نقل و حمل میں کمی، 50 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے، تین روز بازار بند رکھنے اور کاروباری اوقات کم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے کم آمدن والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ماہانہ 20 لیٹر تک دو ہزار روپے جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک زیادہ سے زیادہ تین ہزار روپے ریلیف ملے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے صارف اور گاڑی کی تصدیق کی جائے گی۔ حکومت کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 15 ستمبر سے پیٹرول 4 روپے 42 پیسے اضافے کے بعد 380 روپے 24 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 10 پیسے اضافے کے بعد 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
