سوات، کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی قومی کانگریس میں کارکنوں سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور ایک منظم، جمہوری سیاسی جماعت کے طور پر تنظیم سازی کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ مرکزی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اراکین کی بھرپور شرکت قابلِ تحسین ہے۔ سوات میں مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی اجتماعی قیادت کے تحت منفی طرزِ عمل اور رویوں سے پاک سیاسی جماعت کے طور پر پشتون قوم کی قومی آزادی، خودمختاری اور برابری کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے ملک میں جمہوری اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مزاحمت کی آوازیں دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور علی وزیر، صمد لالا، نور اللہ ترین اور حنیف پشتون سمیت سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات اس صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ مختار خان یوسفزئی نے موجودہ حکومتی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ظلم، جبر اور آمرانہ اقدامات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سوات سے کوئٹہ تک مصنوعی دہشتگردی کے ذریعے عوام کو جان و مال کے عدم تحفظ سے دوچار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون دشمن قوتیں قومی برابری اور متحدہ پشتون صوبے کے حصول کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرکے پشتون قومی تحریک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، تاہم پارٹی کسی دباؤ کے نتیجے میں اپنے قومی اہداف سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پشتونخوا میں مبینہ جعلی الاٹمنٹس اور خیبر پختونخوا میں سروے آف پاکستان کے نام پر زرخیز زمینوں، پہاڑی سلسلوں، جنگلات اور معدنی وسائل پر قبضے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی پالیسیوں کے باعث خیبر پختونخوا، جنوبی پشتونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں کے عوام استحصال کا شکار ہیں۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے این ایف سی ایوارڈ، معدنی وسائل اور دیگر معاشی وسائل پر کنٹرول کی کوششوں سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ ہزارہ تاریخی طور پر پشتونخوا وطن کا حصہ ہے اور انتظامی منصوبوں کے ذریعے اس کی وحدت کو کمزور کرنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے جنوبی پشتونخوا میں مبینہ مصنوعی دہشتگردی اور مختلف ناموں سے مسلح گروہوں کی موجودگی کو خطے میں مزید بدامنی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا وطن کو کسی کے لیے محاذ یا مورچہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم پارٹی بلوچ قومی تحریک کے حقیقی مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔ افغانستان کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہاں بنیادی انسانی، جمہوری اور ملی حقوق کے مسائل سنگین ہیں اور خواتین کی تعلیم و حقوق سے متعلق پابندیوں نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ افغانستان کے خلاف جنگی کارروائیوں کے اثرات عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے لیے عوامی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا احترام ضروری ہے۔ ایران سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایران ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے، اس لیے مسائل کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی ذرائع اختیار کیے جائیں۔ مختار خان یوسفزئی نے کہا کہ پشتون قومی سیاسی تحریک کی تقسیم ایک تاریخی المیہ ہے اور پارٹی نے پشتون قومی محاذ کے قیام کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں، تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی، اس کے باوجود یہ کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے سندھ اور پنجاب میں پشتون عوام کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کے بعض بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پارٹی عہدیداروں و کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوامی و تنظیمی رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے قومی کانگریس کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے جنوبی پشتونخوا میں آل پارٹیز اتحاد اور خیبر پختونخوا میں مصنوعی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں کے نام پر پشتونخوا وطن کی وحدت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور پشتون نوجوانوں میں موجود قومی شعور و سیاسی بیداری کو منظم اور فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
