تازہ ترین ۸ اگست ۲۰۲۶

پشتون بلوچ وطن میں ظلم و جبر انتہا پر، کوئی طبقہ محفوظ نہیں ۔ اصغر خان اچکزئی

نئے صوبوں کا شوشہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے ۔

چمن( سید سردار محمد خوندئی )

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پشتون بلوچ وطن میں ظلم و جبر اور استبداد انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ محافظ سے لے کر منصف تک، تاجر سے لے کر سیاسی قیادت تک اور عام محنت کش و غریب عوام سے لے کر خواتین تک کوئی طبقہ بھی ریاستی اور مسلط کردہ تشدد سے محفوظ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پشتون عوام کو کبھی کسی نام اور کبھی کسی بہانے سے مسلسل تہہ تیغ کیا جا رہا ہے، مگر ظلم کی یہ داستان اب ناقابل برداشت حدوں کو چھو چکی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے خون کی ہولی کھیلی گئی اور وہاں کے عوام کو تباہی اور بدامنی کے حوالے کیا گیا، اب اسی افغانستان کے ساتھ تجارت اور آمدورفت پر قدغنیں عائد کر کے ڈیورنڈ لائن سے متصل علاقوں کے عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب نوجوانوں کو معمولی رقم کے عوض بندوق تھما کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ کھیل کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کے ذمہ داروں کو تاریخ کے کٹہرے میں جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ بلوچستان کے مسئلے کو محض تین سرداروں کا مسئلہ قرار دے کر عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے رہے، وہ آج دیکھ لیں کہ بلوچستان کے ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر طبقے کے عام لوگ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ آج یہ آواز چند افراد یا سرداروں کی نہیں بلکہ پورے مظلوم عوام کی آواز بن چکی ہے جسے طاقت، دھونس اور جبر کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

8 اگست کے سانحے کو پشتون تاریخ کا ایک اور بابڑہ ثانی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس المناک واقعے نے ظلم، بے حسی اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی ایک اور سیاہ داستان رقم کی۔ اسی طرح سانحہ زیارت نے دس سال بعد ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے طریقے اور کردار بدل سکتے ہیں مگر مظلوم عوام کے خلاف روا رکھا جانے والا جبر اپنی نوعیت میں وہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پشتون بلوچ سرزمین پر قبضے، وسائل کی لوٹ مار، سیاسی استحصال، معاشی ناکہ بندی اور عوام کو خوفزدہ کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ وطن کے باسیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے کوئی بھی قوت امن، ترقی اور استحکام کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ وطن پر مسلط قبضہ گیری، ظلم اور جبر کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے 8 فروری 2024 کو جعلی پارلیمان تشکیل دی گئی تاکہ اسمبلی سے کوئی آواز نہ اٹھ سکے۔ بلوچستان کی اس گھمبیر اور مشکل صورتحال میں اسمبلی نے چپ سادھ رکھی ہے۔

کراچی میں ہوٹلوں، کپڑا اور الیکٹرانکس مارکیٹوں اور ریڑھی بانوں پر چھاپے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اور پنجاب میں داخلے پر پشتونوں اور بلوچوں کی شناختی کارڈ کے نام پر تذلیل و توہین ناقابل برداشت عمل ہے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون بلوچ، حقیقی وطن دوست، قوم دوست قیادت اور عوام اپنی دھرتی ماں، اپنے وسائل اور بنیادی حقوق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی اپنے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ظلم و ناانصافی کے خلاف سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔ نئے صوبوں کا شوشہ حقیقی مسائل سے چشم پوشی کے لیے رچایا جا رہا ہے تاکہ بچے کھچے وسائل کو آسانی سے لوٹا جا سکے۔ سانحہ زیارت دھرنے کے مطالبات پر عمل درآمد سے ہی انصاف کے تقاضے پورے اور لواحقین کی داد رسی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہدائے 8 اگست کی عظیم قربانیاں ہم پر قرض ہیں۔ شہدائے سپین تنگی، شہدائے بابڑہ، شہدائے سائنس کالج، شہدائے چمن، شہدائے 8 اگست، شہدائے مانگی ڈیم، شہید ملک عبیداللہ کاسی، شہید خالق داد بابر اور شہید نور اللہ دومڑ کی قربانیاں وسائل پر اختیار، بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہیں۔ انہی قربانیوں کو مدنظر رکھ کر پرامن سیاسی جدوجہد کو اولیت دیں گے۔

قومی شاہراہیں اور پہاڑ مسلح جتھوں کے نرغے میں ہیں۔ ہمیں کسی بھی نام سے مارا جائے، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، ہماری حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ طویل نسل کشی کے بعد اب ہمارے معاشی قتل عام کو دوام دیا جا رہا ہے۔ ڈیورنڈ لائن سے متصل تجارت اور آمدورفت پر قدغن سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ہم چمن پرلت کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرنچ روڈ چمن میں باچا خان مرکز کے سامنے شہدائے اگست کی یاد میں منعقدہ ایک عظیم الشان اجتماع کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔

اجتماع سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، ضلعی صدر عبدالخالق ہمدرد، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری عبیداللہ عابد، ایڈیشنل ڈپٹی سیکرٹری جاوید کاکڑ، مرکزی سیکرٹری رشید خان ناصر، اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر عبدالصمد اچکزئی، نظام الدین کاکڑ، سید عبدالرب آغا، صوبائی نائب صدر جمال الدین رشتیا، چمن بار کے ایڈووکیٹ ہدایت خان اچکزئی، ضلعی جنرل سیکرٹری سمیع اللہ اچکزئی، چیئرمین گل زمان، گل جانو، عصمت وارخطا، محمد علی مدلا اور حافظ سلیمان نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے پشتون قومی تحریک کی جدوجہد اور قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فخر افغان باچا خان کی عدم تشدد پر مبنی تحریک کی بنیاد جدوجہد اور قربانیوں سے منسوب ہے جس میں شہداء کی ایک طویل فہرست ہے۔ شہدائے سپین تنگی اور شہدائے بابڑہ انسانی تاریخ کے اندوہناک سانحات ہیں جہاں سینکڑوں خدائی خدمت گاروں نے جام شہادت نوش کیا جن میں بچے، خواتین، جوان اور بزرگ شامل تھے۔

مقررین نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے شہداء کی طرح سانحہ زیارت میں بھی پشتون پولیس اہلکاروں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ درپیش صورتحال ہم سے اتفاق و اتحاد کا تقاضا کرتی ہے، بالخصوص پشتون، بلوچ اور ہزارہ اقوام کو بالادست اشرافیہ کے منفی عزائم کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔

جلسے کی صدارت ضلعی صدر عبدالخالق حقمل نے کی۔ جلسے میں ضلع کے طول و عرض سے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن جلوس کی شکل میں شریک ہوئے اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جلسے کے اختتام پر شہدائے 8 اگست سمیت پشتون بلوچ قومی تحریک کے شہداء اور اکابرین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔