مقامی ۳۱ مئی ۲۰۲۶

پشتونوں کو مستقبل کے تقاضوں پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

جنوبی پشتونخوا، قبائلی اضلاع اور پورے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پشتون قوم جذباتی ردعمل سے بالاتر ہو کر اجتماعی تدبر، سیاسی بصیرت اور قومی مفادات کے تناظر میں اپنے مستقبل پر سنجیدہ غور کرے۔ دنیا ایک نئی سیاسی صف بندی کی جانب بڑھ رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ سے لے کر وسطی و جنوبی ایشیا تک طاقت کے توازن بدل رہے ہیں، ریاستوں کے درمیان نئے اتحاد اور نئے تنازعات جنم لے رہے ہیں، جبکہ سرحدی خطے ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پشتون علاقوں کے لیے خاموش تماشائی بنے رہنا دانشمندی نہیں ہو سکتی محمود خان اچکزئی کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے بعض نظریات یا بیانیے سے بھی اختلاف ممکن ہے، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ مسلسل ایک ایسے سیاسی فریم ورک پر زور دیتے رہے ہیں جس میں آئین کی بالادستی، منتخب پارلیمان کی خودمختاری، صوبوں کے اختیارات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ باوقار تعلقات اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ ان کے حالیہ بیانات اور چمن میں کی گئی گفتگو کا ایک بڑا نکتہ یہ ہے کہ خطے میں جنگی کشیدگی، داخلی بدامنی، سرحدی تجارت کی بندش، معاشی جمود اور قومی بے چینی جیسے مسائل کو وقتی سیاسی بحث کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ پشتون معاشرہ اس وقت کئی سطحوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف معاشی مشکلات، بے روزگاری، سرحدی تجارت کی بندش اور نقل و حرکت پر قدغنیں ہیں، دوسری جانب بدامنی، سیاسی بے یقینی اور داخلی تقسیم نے اجتماعی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر سیاسی جماعت، قبائلی مشرتابه، سماجی قیادت، دانشور طبقے، مذہبی شخصیات، تاجروں، نوجوانوں اور طلبہ کو مل بیٹھ کر اس سوال پر غور کرنا ہوگا کہ آنے والے برسوں میں پشتون علاقوں کا سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل کس سمت جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پشتون قوم اختلافات کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے قومی بقا، تعلیم، تجارت، امن، آئینی حقوق، وسائل میں حصہ داری اور علاقائی استحکام جیسے بنیادی سوالات پر ایک مشترکہ فکری مکالمہ شروع کرے۔ اگر خطہ کسی بڑے جغرافیائی یا عسکری تناؤ کی طرف بڑھتا ہے تو سب سے پہلے اس کے اثرات انہی سرحدی آبادیوں پر پڑتے ہیں جو پہلے ہی عدم استحکام کی قیمت ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے دانش کا تقاضا یہی ہے کہ پشتون قیادت مستقبل کے امکانات اور خطرات پر “سر جوڑ کر بیٹھے”، باہمی اختلاف کے باوجود مشترک نکات تلاش کرے اور نئی دنیا کے بدلتے تقاضوں سے قوم کو باخبر اور تیار کرے۔

یہ وقت نعروں سے زیادہ تدبر، وقتی ردعمل سے زیادہ اجتماعی حکمت، اور سیاسی رقابت سے زیادہ قومی مشاورت کا متقاضی ہے۔ اگر قومیں اپنے مستقبل کے بارے میں بروقت سوچنا چھوڑ دیں تو فیصلے پھر ان کے بارے میں کہیں اور ہونے لگتے ہیں۔