پاکستان ۱۰ اگست ۲۰۲۶

پاکستان کو بچانے اور چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، مصطفیٰ کمال

کوئٹہ (ویب نیوز) ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک چلانے والوں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ پاکستان کو بچانے اور مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، ایک وفاق اور چار صوبوں کا موجودہ نظام ختم ہونا چاہیے۔ کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر آئینی ترمیم کو تسلیم نہ کیا گیا تو صوبے کے نام پر ہونے والی تمام تحریکوں کی حمایت کی جائے گی، جب بھی عوام کو حقوق دینے کی بات ہوتی ہے تو پیپلزپارٹی بلیک میلنگ شروع کردیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے لیکن آج بھی صرف چار صوبے موجود ہیں، اس لیے انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے سات ڈویژنوں کو انتظامی یونٹس کا درجہ دیا جائے، اس طرح صوبے کے وسائل اور اختیارات عوام کے قریب منتقل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں شمولیت کے لیے ایک نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا جس کے تحت آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی اختیارات یونین کونسلوں تک منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم پیپلزپارٹی نے اسے مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملک میں سرمایہ کاری لانے اور معاہدے کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو تسلیم کررہی ہے اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے بھی کیے جارہے ہیں۔