اسلام آباد ( صداقت نیوز) نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 9 ماہ میں بڑھ کر 32 ارب 19 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اجلاس میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گیس اور پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ فروری 2026 تک 5.1 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے، جبکہ شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہوگئی ہے۔ بریفنگ کے مطابق ملک میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد اور خواتین میں 13 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی، جبکہ غربت کی شرح بھی 22 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور جعلی مصنوعات معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہیں، جو ٹیکس نظام اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اجلاس میں معاشی چیلنجز، مہنگائی، زرعی اخراجات اور غذائی تحفظ کے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
