کوئٹہ (ویب نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور نیا حملہ پہلے سے زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل بھی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم امریکا اکیلے بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ معاہدہ اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدے میں شمولیت سے مشروط ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی بیانات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں غیر قانونی اور جنگی جرم کے مترادف ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ امریکا کو ایران اور ایرانی عوام کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
