کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
سانحہ زیارت کے خلاف کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 5 سال پہلے کہا تھا کہ آئیں متحد ہو جائیں، مولانا فضل الرحمان، اسفندیار ولی خان اور آفتاب شیرپاؤ سمیت اکابرین پر حملے ہوئے، ان سب کا کیا قصور تھا؟ زمانوں سے ہمارا لہو بہایا جا رہا ہے اور آج کہا جاتا ہے کہ پشتون دہشت گرد ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت اگر جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہے تو ضروری ہے کہ چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو پہلے عہدوں سے ہٹایا جائے، ان کی موجودگی میں شفاف تحقیقات ممکن نہیں، یہی ہمارے بچوں کے قاتل ہیں۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کی ساری حکومت ان قتل کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون افغان وطن بڑی طاقتوں کے درمیان واقع ہے، شمال میں روس اور ماوراء النہر، دوسری طرف عرب و ایران، ایک جانب چین اور نیچے ہندوستان ہے، ہم تعداد میں چھوٹے ضرور ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پشتون نے کبھی کسی بڑی طاقت کی ایجنٹی نہیں کی۔ یہ ملک 78 سال کا ہو چکا ہے، پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی ہزاروں سال سے اپنے تاریخی وطنوں کے مالک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوات اور وزیرستان میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا گیا، گھروں اور مارکیٹوں کو مسمار کر کے کرکٹ گراؤنڈ بنائے گئے، دنیا کی بڑی طاقتوں سے کہتے ہیں کہ جس حکومت کے ساتھ آپ ہمارے وسائل کا سودا کر رہے ہیں اسے عوام نے ووٹ نہیں دیا، جس سرزمین پر معدنیات نکلیں وہاں کے عوام اور زمین مالکان سے بات کی جائے، دنیا کے قوانین کے مطابق ان کا حصہ انہیں دیا جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گلستان، قلعہ عبداللہ اور دیگر اضلاع میں لاکھوں ٹن افیون کی فصل کاشت کی جا رہی ہے اور فی ایکڑ کے حساب سے رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ اور دیگر علاقوں میں اسی فصل پر لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، ہمیں دوسروں کے کہنے پر آپس میں لڑ کر خود کو برباد نہیں کرنا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو شخص افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور استقلال پر خوش نہیں ہوتا وہ نہ مسلمان ہے نہ پشتون، اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان، افغانستان اور تمام ہمسایوں کی کانفرنس بلائیں تاکہ عدم مداخلت اور خودمختاری کے احترام پر مبنی معاہدہ طے پائے جس کے ضامن سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں رہنے والے ہندکو، فارسی، ہزارہ، گجر، چترالی، کوہستانی، سکھ، ہندو اور عیسائی سمیت تمام اقلیتوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے، یہ سب ہمارے بھائی ہیں، جو آئین کو توڑتا یا اس پر عمل نہیں کرتا وہ غدار اور ملک دشمن ہے۔
سردار اختر مینگل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح گوادر کی زمینیں غیر بلوچوں کو الاٹ کرنا غلط ہے اسی طرح پشتونوں کی تاریخی زمینیں غیر پشتونوں کے نام الاٹ کرنے سے باز آنا ہوگا، یہ تمام الاٹمنٹس اور مائنز اینڈ منرل بل منسوخ کرنا ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ کسی لشکر کی سربراہی چاہتے ہیں نہ بادشاہی، نہ کسی جرنیل، آئی ایس آئی یا ایم آئی سے ان کا کوئی خفیہ یا اعلانیہ تعلق ہے، فوج اور ایجنسیوں سے کوئی دشمنی نہیں لیکن انہیں سیاست میں مداخلت بند کر کے دنیا کی دیگر افواج کی طرح اپنے حلف کی پاسداری کرنا ہوگی۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام پشتونوں کا مشترکہ جرگہ بلایا جائے جو چترال سے لے کر ہزارہ، کشمیر، وزیرستان اور سوات تک کے پشتونوں پر مشتمل ہو اور دو تین دن تک جاری رہ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے۔
