تازہ ترین ۲۱ جون ۲۰۲۶

وزیراعلیٰ بلوچستان کا اسمبلی میں بجٹ پر تاریخی خطاب، بجٹ کثرت رائے سے منظور

کوئٹہ (ویب نیوز)کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 1089 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اجلاس اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت 40 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے آغاز پر رکن اسمبلی رستم بگٹی کے والد کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے مطالبات زر پیش کیے جنہیں مرحلہ وار منظور کر لیا گیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ ایوان نے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 291 ارب روپے کے مطالبات زر منظور کیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں امن، ترقی اور گڈ گورننس کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں پیش رفت، ہزاروں اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی بھرتی، طبی سہولیات میں بہتری، میرٹ کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو حکومتی کارکردگی قرار دیا۔ انہوں نے دہشت گردی، نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور امن و امان کے چیلنجز پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات آئین کے دائرے میں رہنے والوں سے ممکن ہیں جبکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے بات نہیں ہو سکتی۔ وزیراعلیٰ نے شہدا کے لیے خصوصی پیکجز اور سیکیورٹی فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان بھی کیا، جبکہ ایوان نے بجٹ کی منظوری کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔