کوئٹہ/گوادر(ویب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گوادر کے دورے کے دوران آل پارٹیز گوادر کے وفد سے ملاقات کی، جس میں علاقے کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ آل پارٹیز کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو گوادر کے عوام کے مسائل اور مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گریڈ فور کی آسامیوں کے ٹیسٹ اور انٹرویوز مقامی سطح پر منعقد کیے جائیں تاکہ مقامی نوجوانوں کو ان کا قانونی حق مل سکے۔ وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ گوادر سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں گریڈ فور کی آسامیوں کے ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کیے جائیں اور ضلعی کوٹے کے مطابق مقامی افراد کی بھرتی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقامی امیدوار کا حق نہیں مارا جائے گا اور بھرتیوں میں میرٹ اور ضلعی کوٹے کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے گوادر کے محکمہ فشریز اور محکمہ جنگلات میں گریڈ فور کی آسامیوں پر غیرمقامی افراد کی بھرتی سے متعلق شکایات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ گوادر عوام کے مسائل سننے اور سیاسی جماعتوں و متعلقہ فریقین سے مشاورت کے لیے آئے ہیں اور عوامی شکایات اور جائز مطالبات پر فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 برس سے گوادر کی ترقی کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اب ترقی کے نام پر خرچ کیے گئے وسائل اور ان کے عوام کی زندگیوں پر اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ گوادر کی ترقی صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عوام کو صاف پینے کا پانی، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی شہری سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مقامی لوگوں کو ان کے قانونی حقوق دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات مقامی لوگوں تک پہنچنے چاہئیں، کیونکہ ترقی کا اصل مقصد عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر بلوچستان کی ترقی کا اہم مرکز ہے اور علاقے میں جاری ترقیاتی عمل میں مقامی لوگوں کو برابر کا شریک بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی جماعتوں اور مقامی نمائندوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، وسائل کے شفاف استعمال اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
