کوئٹہ(ویب نیوز)بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی نے صوبائی حکومت کی جانب سے نائٹروجنیسی کھاد کی منتقلی، خرید و فروخت، فراہمی اور تقسیم پر عائد پابندی مسترد کرتے ہوئے فیصلے پر فوری نظرثانی اور پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی، جنرل سیکریٹری حاجی عبدالرحمن بازی اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کھاد کی منتقلی اور فراہمی پر پابندی سے بلوچستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور لاکھوں کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی پانی کی کمی، خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے فصلوں اور باغات کے لیے ضروری کھاد کی فراہمی روکنا کسانوں کی مشکلات مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔ کسان رہنماؤں نے کہا کہ امن و امان قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں جن کا براہ راست نقصان زراعت اور کسانوں کو پہنچے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پابندی کے باعث فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور باغات کو نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ زمیندار ایکشن کمیٹی کے مطابق قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، مستونگ، خانوزئی، سبی اور نصیرآباد سمیت مختلف اضلاع میں کھاد کی منتقلی پر پابندی کے باعث کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبے کے کئی علاقوں میں خشک سالی ہے جبکہ دوسری جانب کھاد کی منتقلی روک دی گئی ہے، اس کے علاوہ کسان زرعی ٹیکس کے نام پر بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نائٹروجنیسی کھاد پر عائد پابندی فوری ختم کی جائے اور کسان تنظیموں، محکمہ زراعت، متعلقہ اداروں اور دیگر فریقین سے مشاورت کے بعد ایسی عملی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے سیکیورٹی کی ضروریات بھی پوری ہوں اور کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے۔ زمیندار رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر نائٹروجنیسی کھاد پر پابندی فوری واپس نہ لی گئی تو بلوچستان کے کسان شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت پر عائد ہوگی۔
