مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

ملک و قوم لادینیت اور بدامنی کا شکار، نئی نسل کو تعلیم سے دور کر کے فحاشی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد ،کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکمرانوں کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک و قوم لادینیت اور بدامنی کی شدید لہر سے گزر رہے ہیں، جبکہ نئی نسل اور نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر کے قصدا بے حیائی اور فحاشی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبا اسلام(جے ٹی آئی)کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالمنان کاکڑ اور حافظ عبدالخالق صدیقی کی قیادت میں ملاقات کرنے والے ایک اعلی سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں اختر علی، ابوذر وزی، عثمان قاسمی اور امین اللہ خاکسار بھی شامل تھے۔مولانا فضل الرحمان نے جمعیت طلبہ اسلام پاکستان کے عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے تاکید کی کہ جے ٹی آئی کے تمام ذمہ داران کا فرض بنتا ہے کہ وہ دینی مدارس، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور تمام تعلیمی اداروں میں جا کر تنظیم کو فعال، منظم اور مستحکم بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے، تاہم جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ اور ہر دور میں ملکی و معاشی استحکام کے لیے عملی تحریکیں چلائی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 18 جون کو چارسدہ میں ہونے والی مولانا شیخ محمد ادریس رحم اللہ علیہ کانفرنس سے دور رس اور انتہائی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک اور قوم اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، لہذا ملکی بقا اور معاشی استحکام کے لیے قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے اور قوم کے ہر فرد کو اس یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔