کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ 14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے اور آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اسی لیے وہ قلات جاکر اپنے لوگوں کے ساتھ یوم آزادی منانا اور سبز ہلالی پرچم لہرانا چاہتے تھے۔ ایک تفصیلی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد تاریخی شہر قلات میں یوم آزادی کے موقع پر خوف و ہراس پھیلانا اور پاکستانی قومی پرچم لہرانے سے روکنا تھا، تاہم ریاست اور عوام کے عزم کے باعث وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ میر ضیاء لانگو نے کہا کہ پاکستانی پرچم ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اور اگر کوئی دشمن ایٹم بم لے کر بھی قومی پرچم لہرانے سے روکنے آئے تو ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے اور پرچم بلند رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قلات کی تقریب سے واپسی کے دوران پہاڑی علاقے کے قریب دہشت گردوں نے پولیس کے قافلے پر فائرنگ کی اور بعد ازاں دھماکا بھی کیا، جس سے پولیس کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور بعض اہلکار زخمی ہوئے، تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو علاقے سے فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں تاکہ عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے، تاہم دہشت گردوں کی جانب سے خواتین، بچوں، بزرگوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔ میر ضیاء لانگو نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کو آزادی کی جنگ قرار دینے کے بجائے مسلح گروہوں کی سرگرمی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بیرونی قوتیں دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل، گوادر اور تجارتی راستوں کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اور دہشت گردی ترقیاتی منصوبوں، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کے لیے روزگار، میرٹ پر بھرتیوں اور تعلیمی وظائف کے پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ نوجوان پہاڑوں کے بجائے جامعات، روزگار اور ترقی کی طرف جائیں۔ سیاسی مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل مذاکرات، سیاسی عمل، آئین اور پارلیمانی ذرائع سے حل کیے جانے چاہئیں، حکومت ان سیاسی نوجوانوں اور گروہوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے جو بلوچستان کے حقوق، انصاف اور ترقی کی بات کرتے ہیں، تاہم جو لوگ ہتھیار کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ مشکل ہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی، سردار اختر جان مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے کہا کہ سیاسی اختلافات سیاسی اور پارلیمانی فورمز پر ہی پیش کیے جانے چاہئیں اور سیاست کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں ملایا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، مذہبی، قبائلی اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں، تاہم ہر شخص کا ایک وطن اور ایک ملک ہوتا ہے اور پاکستان کے معاملات میں پاکستان کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ میر ضیاء لانگو نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، سیاسی عمل، مذاکرات اور عوامی رائے سے طے ہوگا، جبکہ حکومت کا مقصد بلوچستان کے عوام کو امن، روزگار، تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
