اسلام آباد(ویب نیوز)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہوتا ہے جب سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمے کی اچھی فضا بنتی ہے اور قربت کے امکانات پیدا ہوتے ہیں تو بعض اقدامات سے اسے خراب کردیا جاتا ہے، انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ان کی صحت کے حوالے سے اضطراب پایا جاتا تھا اور بتایا جارہا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت انہیں الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم رات کے اندھیرے میں انہیں کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے اور ان کی بہنوں و ڈاکٹروں کو الشفاء اسپتال کے کمرے میں بند کیے جانے کی اطلاعات نے کئی سوالات پیدا کیے، محمود خان اچکزئی نے سرانان واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے گاؤں سے تقریباً 17 میل دور واقع اس علاقے میں پیش آنے والے واقعے پر حکومتی سطح پر مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرانان میں پیش آنے والا واقعہ حکومت کے اندر موجود ’’کالی بھیڑوں‘‘ کی کارروائی ہوسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کررہے ہیں اور اگر عدالتی احکامات کو بھی نظرانداز کیا جائے تو ملک کو کس سمت لے جایا جارہا ہے، انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ وہ ایوان کے نگہبان کی حیثیت سے ایسے معاملات پر اپنا کردار ادا کریں، محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے سے گریز کیا جائے اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے، آئین اور قانون کی بالادستی کے ذریعے تلاش کیا جائے، ان کے مطابق سوالات کا وقفہ اپنی جگہ اہم ہے تاہم موجودہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر ارکان کو اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تقریر کا بیشتر حصہ سینسر کردیا گیا ہے۔
