پاکستان ۲۶ اگست ۲۰۲۶

قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مسائل کی گونج، جمال شاہ کاکڑ نے بواٹہ چیک پوسٹ واقعے پر تشویش کا اظہار کیا

کوئٹہ (ویب نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بواٹہ چیک پوسٹ پر پیش آنے والے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں ایک ڈرائیور نے مسلسل مشکلات اور مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر خود کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کے ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کے ساتھ آخر کب تک ایسا رویہ اختیار کیا جاتا رہے گا۔ جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں اور صوبوں کے درمیان راستوں کی بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور دن رات محنت کرکے اپنے خاندانوں کا روزگار چلاتے ہیں، اس لیے انہیں غیر ضروری مشکلات اور ہراسانی سے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے پشتون آباد، سیٹلائٹ ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں 8، 8 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے، جبکہ سڑکوں اور راستوں کی بندش کے باعث ریل کا سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ بلوچستان کے عوام کے لیے سفری سہولیات پہلے ہی محدود ہیں اور فضائی سفر بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ ہوائی جہاز کے ٹکٹ ایک لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں، تو غریب عوام اتنے بھاری اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے، صوبوں کے درمیان راستے کھولے جائیں، ریل سروس بحال اور مؤثر بنائی جائے، لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے اور عوام کو سستی، محفوظ اور قابلِ رسائی سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔