تازہ ترین ۵ اگست ۲۰۲۶

قلعہ سیف اللہ کے تھانوں سے اسلحہ واپس لینے پر پشتونخوا نیپ کا شدید احتجاج

کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع قلعہ سیف اللہ کے مختلف پولیس تھانوں سے اسلحہ واپس لینے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کے فیصلے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے عوام میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ بڑھ گیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، کان مہترزئی، نسائی، مرغہ فقیرزئی، لوئی بند، بادینی، شران جوگیزئی، شنکئی، اخترزئی، باتوزئی اور مسافرپور سمیت مختلف تھانوں سے بڑی تعداد میں ایس ایم جیز اور میگزین واپس لے کر ڈی پی او آفس منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے ان تھانوں کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے وقت میں جب قلعہ سیف اللہ اور ملحقہ علاقے دہشت گردی اور مسلح گروہوں کے خطرات سے دوچار ہیں، پولیس کو اسلحے سے محروم کرنا امن دشمن عناصر کے لیے سہولت کاری کے مترادف ہے۔ پشتونخوا نیپ نے کہا کہ یہ اقدام عوامی مفاد، امن و امان اور ریاستی عملداری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ پارٹی نے صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ، آئی جی پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تھانوں سے اسلحہ واپس لینے کے احکامات فوری منسوخ کیے جائیں، پولیس تھانوں کو مکمل فعال رکھا جائے، ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔