مقامی ۱۹ جون ۲۰۲۶

قلعہ سیف اللہ میں نوجوان کے مبینہ اغوا، تشدد اور خودکشی کا معاملہ، اہلخانہ نے سنگین الزامات عائد کر دیے

قلعہ سیف اللہ (ویب نیوز) قلعہ سیف اللہ میں مبینہ طور پر اغوا، شدید تشدد اور بعد ازاں ذہنی صدمے کے باعث خودکشی کرنے والے نوجوان ظفراللہ شاہیزئی جلالزئی کاکڑ کے چچا مولوی روح اللہ نے میڈیا کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان کو 13 جون کو تین مقامی افراد نے زبردستی اغوا کیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ نوجوان کو نیم مردہ حالت میں سڑک کنارے پھینک دیا گیا، بعد میں اہلخانہ نے اسے کوئٹہ منتقل کیا جہاں علاج ہوا لیکن وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔چچا کے مطابق، متاثرہ نوجوان نے بتایا تھا کہ اس کی برہنہ ویڈیو بھی بنائی گئی اور اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس نے بات کی تو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائے گی۔ اہلخانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعد میں معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ان کے مطابق، شدید ذہنی اذیت اور بدنامی کے خوف کے باعث نوجوان نے تیسرے روز گھر میں خودکشی کر لی۔ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔