کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل ویب ڈیسک)ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی)کوئٹہ عمران شوکت نے ایک ویڈیو پیغام میں عوامی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جو کوئی ہماری بہن، بیٹی یا ماں کی طرف بری نظر سے دیکھنے یا اس پر حملہ کرنے کی جرات کرے گا، قانون اس کے خلاف پوری قوت سے حرکت میں آئے گا اور اسے اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ ایک انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابلِ مذمت اقدام تھا جس نے پورے بلوچستان کو رنجیدہ اور مشتعل کر دیا تھا، جس کے بعد کوئٹہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مختصر وقت میں ملزم کا سراغ لگایا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں ملزم موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر ملزم پولیس پر فائرنگ نہ کرتا تو یقینا اسے زندہ گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا تاکہ قانون کے مطابق اسے عبرتناک سزا ملتی۔دوسری جانب سول ہسپتال میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران بعض افراد کی جانب سے شدید نعرے بازی، بدتمیزی اور پولیس مخالف رویہ دیکھنے میں آیا، جسے عوامی و سرکاری حلقوں میں ایک غیر مناسب طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق خصوصا ڈاکٹرز جیسے پڑھے لکھے، باشعور اور مہذب طبقے سے ہمیشہ ہر حال میں تحمل، بردباری اور شائستگی کی توقع کی جاتی ہے؛ اختلافِ رائے ہر کسی کا آئینی حق ہے لیکن اس کا اظہار ہمیشہ مہذب انداز میں ہونا چاہیے۔ خاتون ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والا ظلم یقینا ناقابلِ معافی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پولیس نے انتہائی کم وقت میں جانفشانی سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم تک رسائی حاصل کی، اس لیے ایسے مواقع پر اداروں کی کارکردگی کو بھی انصاف کے ترازو میں دیکھنا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دے کر خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
