اسلام آباد (ویب نیوز) قائم مقام صدر پاکستان اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل بااختیار بنانے، ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے اور زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام دوست پارلیمانی نظام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ایپلی کیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا آغاز 1973ء میں سینیٹ کے قیام کے بعد اس ادارے کے سفر میں ڈیجیٹل تبدیلی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک موبائل ایپلی کیشن کے اجرا تک محدود نہیں بلکہ کام کرنے کے نئے طریقۂ کار، سوچ کے نئے انداز اور عوامی خدمت کے نئے اسلوب کا آغاز ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل اقدام سینیٹ اور اس کے ارکان کی کارکردگی اور انتظامی امور پر طویل مدتی اثرات مرتب کرے گا اور ایک ایسے جدید پارلیمانی ادارے کی تشکیل میں مدد دے گا جو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پارلیمانی اور حکومتی امور بڑی حد تک روایتی اور دستی طریقوں سے انجام دیے جاتے تھے، جس کے باعث عوامی خدمت کے بجائے انتظامی مراحل میں زیادہ وقت صرف ہوتا تھا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور ٹیکنالوجی و جدت کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی علامت ہے اور اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ایوانِ بالا جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیکریٹریٹ پہلے ہی ای-آفس نظام کامیابی سے نافذ کرچکا ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جبکہ موبائل ایپلی کیشن بھی سینیٹ کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ ہے، جس کا مقصد وقت کی بچت، کارکردگی میں اضافہ اور غیر ضروری مراحل و تکرار کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن محض سہولت فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ ادارے کی صلاحیت اور مؤثریت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ اور عوام کے درمیان رابطے مضبوط بنانے میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ سینیٹ کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پارلیمانی سرگرمیوں سے متعلق بروقت معلومات فراہم کی جاتی ہیں، عوامی رائے حاصل کی جاتی ہے اور غلط معلومات کے تدارک میں بھی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل آرکائیوز کی ترقی کے باعث مستند پارلیمانی معلومات پارلیمنٹ کے ارکان، محققین اور عوام کو آسانی سے دستیاب ہوسکتی ہیں، جس سے شفافیت میں اضافہ اور جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی ایک مسلسل سفر ہے اور سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا آغاز ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست ایوانِ بالا کی جانب اہم قدم ہے۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا آغاز ادارے کے پارلیمانی سفر میں ایک اہم سنگِ میل اور سینیٹ کے کام کرنے کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایپلی کیشن محض ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ سینیٹ کے داخلی نظام کو جدید بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا اجرا پارلیمانی امور اور ارکان و عوام کے ساتھ رابطوں کو جدید بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید پارلیمنٹ کے لیے صرف اچھی قانون سازی کافی نہیں بلکہ ایسے جدید نظام بھی ضروری ہیں جن کے ذریعے پارلیمانی امور مؤثر انداز میں انجام، منظم، ریکارڈ اور عوام تک پہنچائے جاسکیں۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے پارلیمنٹ کی ڈیجیٹلائزیشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی سے ادارے کی کارکردگی، شفافیت اور عوامی ردِعمل بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے میں ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل معاشرہ اور ڈیجیٹل گورننس شامل ہیں اور تمام سرکاری و عوامی اداروں کی ڈیجیٹل تبدیلی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ منظور کیا، جس کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کی گئی۔ سینیٹ سیکریٹری سید حسنین حیدر نے شرکاء کو ’’سینیٹ آف پاکستان‘‘ ایپلی کیشن کے مقاصد اور خصوصیات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایپلی کیشن سینیٹ کے آئی ٹی شعبے نے تیار کی ہے اور پارلیمانی معلومات کی زیادہ مؤثر اور بروقت ترسیل میں معاون ثابت ہوگی۔
