تازہ ترین ۴ اگست ۲۰۲۶

عوامی مسائل بزورِ طاقت حل نہیں ہوں گے، مقتدرہ کو سنجیدگی دکھانا ہوگی: مولانا فضل الرحمن

کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی) جمعیت علماء اسلام کے امیر، قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن ایک روزہ دورے پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچے۔ کوئٹہ ایئرپورٹ پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین اور جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین اور کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کے سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کے بڑے بھائی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی اور بلوچستان پولیس سمیت حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کرائی۔

اس کے بعد مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بدترین اور گمبھیر صورتحال نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقتدرہ کو سنجیدہ طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت ہے، عوامی مسائل اور مشکلات بزورِ طاقت حل نہیں ہو سکتے، اس کے لیے پوری قوم کو ملک بچانے کے لیے سوچنا ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کے معیار کی بات نہیں، یہ صرف عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک مخصوص سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم صوبوں کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے لیے تمام اقوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ فاٹا کو غیر سنجیدہ طور پر ضم کر دیا گیا اور اب تک وہاں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت صرف ایک قوم کے نہیں بلکہ پورے ملک کی اپوزیشن کے نمائندہ ہیں، انہیں ملکی سطح پر تمام اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس بلانا چاہیے اور ملک و قوم کو بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ پہلے ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ غم کرتے تھے، اب تو آزاد کشمیر میں بھی حالات انتہائی افسوسناک ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ اس ملک کو درپیش مسائل کے حل کا واحد راستہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو اختیار دینا ہے، لیکن افسوس کہ آج پاکستان میں ملک کی سپریم پارلیمنٹ کو صرف نام تک محدود کر دیا گیا ہے۔