اسلام آباد (ویب نیوز) عالمی بینک نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مختص اربوں روپے کے رہائشی پروگرام کے فنڈز دیگر انفراسٹرکچر منصوبوں کو منتقل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق رہائشی امداد محدود کیے جانے کے بعد ایک لاکھ 19 ہزار 49 تصدیق شدہ اور اہل خاندان مالی معاونت سے محروم رہ گئے ہیں، جبکہ مستحق خاندانوں میں 84 فیصد انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عالمی بینک نے کہا کہ ان خاندانوں کے پاس محدود بچت، رسمی قرضوں تک کم رسائی اور معاشی یا قدرتی آفات کے جھٹکوں سے نمٹنے کی محدود صلاحیت ہے، اس لیے امداد سے محرومی انہیں مزید مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔ عالمی بینک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ مستحقین کو فیصلے سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے، شکایات کے ازالے کا شفاف نظام قائم کیا جائے اور منصوبے کے قانونی، انتظامی اور ساکھ سے متعلق خطرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
