کابل(ویب نیوز) اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نصیراحمد اندیشہ نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات کو افغانستان کے سرکاری قوانین یا عوامی رائے کی نمائندگی کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق افغان عوام طالبان کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے اور کئی علاقوں میں ان کے خلاف احتجاج بھی سامنے آ رہا ہے، جبکہ طالبان کی سخت پالیسیاں عوامی خواہشات کی عکاسی نہیں کرتیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طالبان کی بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت تسلیم کروانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں۔
