اسلام آباد (ویب نیوز) وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کے قیام کے لیے اگر ریفرنڈم ہونا ہے تو اس معاملے کو کابینہ میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی بات کرنا کوئی جرم نہیں، آئین میں صوبے بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے کہا کہ ان ملاقاتوں میں نہ کوئی چیز پکائی جارہی ہے اور نہ پک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان آپس میں بیٹھتے ہیں تو مسائل کا راستہ نکلتا ہے، حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے صوبوں کے حوالے سے کوئی تجویز سامنے آتی ہے تو حکومت اس پر بات کرے گی اور اتفاقِ رائے کی صورت میں حکومت اپنا مؤقف سامنے لائے گی۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات ہونی چاہیے، کیونکہ رابطے اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ یہ اچانک نہیں آئی بلکہ اس پر طویل مشاورت ہوئی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی ڈیڑھ ماہ تک بات چیت جاری رہی۔ ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی جبکہ 27ویں ترمیم میں سابق ترمیم کی رہ جانے والی بعض چیزیں مکمل کی گئیں۔
