کوئٹہ (ویب نیوز) صوبائی وزراء کی مسلسل غیر حاضری کے باعث سول سیکرٹریٹ میں دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد شہری وزراء سے ملاقات کیے بغیر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان ایک طرف میرٹ اور گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب کابینہ کے بعض وزراء کی دفاتر میں حاضری یقینی نہیں بنائی جارہی۔ سائلین کا کہنا ہے کہ خضدار، ژوب، گوادر اور دیگر علاقوں سے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ آتے ہیں، بعض افراد ادھار رقم لے کر سفر کرتے ہیں اور کئی کئی روز انتظار کے باوجود متعلقہ وزیر سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔ ذرائع کے مطابق وزراء کی عدم موجودگی پر متعلقہ پرسنل سیکرٹریز سے رابطہ کیا جائے تو کبھی بتایا جاتا ہے کہ وزیر کراچی یا اسلام آباد میں ہیں اور کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس میں مصروفیت کا عذر پیش کیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض وزراء کئی ہفتوں تک اپنے دفاتر میں موجود نہیں ہوتے، جبکہ بعض نے طویل عرصے کے دوران بھی عوام سے ملاقات کو ترجیح نہیں دی۔ ان کا کہنا ہے کہ وزراء کی غیر حاضری کے باعث سول سیکرٹریٹ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے شہریوں کا وقت اور پیسہ ضائع ہورہا ہے۔ شہریوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی وزراء کی دفاتر اور سول سیکرٹریٹ میں حاضری یقینی بنائی جائے تاکہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔
