کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ میں عوام کے لیے کوئی قابلِ ذکر ریلیف یا بڑا ترقیاتی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔اپنے مشترکہ بیان میں مولانا عبدالرحمن رفیق، حاجی عین اللہ شمس اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ بجٹ میں صرف محدود نوعیت کے اعلانات کیے گئے ہیں، جیسے مساجد کے لیے سولر سسٹم، لیکن عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح اور عملی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، صحت کے ناقص نظام اور تعلیم کی زبوں حالی جیسے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں مریض اب بھی اپنی دوائیں خود خریدنے پر مجبور ہیں۔ رہنماؤں کے مطابق گیس اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، بھاری بلوں اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار ہیں اور حکومت ترقی و خوشحالی کے دعووں کے باوجود عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جے یو آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر عوامی مسائل کے حل، روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوامی بے چینی کم ہو سکے۔
