بسیمہ(ویب نیوز)شہید احمد جان حاجی زئی کی بیٹی شاہستہ احمد نے کہا ہے کہ ان کے والد بے گناہ تھے اور مسلح افراد انہیں زبردستی گھر سے لے جانے کے بعد قتل کرگئے، جبکہ ان کے بقول بعد ازاں مسلح افراد نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ احمد جان حاجی زئی کو غلطی سے قتل کیا گیا۔ شاہستہ احمد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 29 اگست کی رات تقریباً 9 بجے آٹھ موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد، جنہوں نے مبینہ طور پر مخصوص بیجز لگا رکھے تھے، ان کے گھر کی چار دیواری توڑ کر زبردستی داخل ہوئے اور ان کے والد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے مسلح افراد سے ان کے والد کے جرم سے متعلق معلومات اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا، تاہم ان کی درخواستیں قبول نہیں کی گئیں۔ شاہستہ احمد کے مطابق والد کی تلاش کے لیے خاندان اور علاقے کے لوگوں کی کئی روزہ کوششوں کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، یہاں تک کہ یکم ستمبر کو چار مسلح افراد گھر پہنچے اور اہلِ خانہ کو اطلاع دی کہ احمد جان حاجی زئی کو قتل کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول، اہلِ خانہ کے سوال پر مسلح افراد نے کہا کہ احمد جان کا کوئی قصور نہیں تھا اور انہیں غلطی سے قتل کیا گیا۔ شاہستہ احمد نے متعلقہ اداروں، قبائلی عمائدین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام ذمہ دار افراد کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاندان کا مطالبہ انتقام نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی اور اپنے والد کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب ہے۔
