مقامی ۱۰ جون ۲۰۲۶

شاہراہوں پر بدامنی اور بڑھتے نقصانات پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا ٹرانسپورٹرز کی 11 جون کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان

کوئٹہ(صداقت ویب سائٹ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبے بھر کے ٹرانسپورٹرز، تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کی جانب سے 11 جون کو دی جانے والی پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ برداشت حد تک خراب ہو چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ، شاہراہوں کی سلامتی اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبہ عملا ڈاکوں، دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور سماج دشمن عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے صوبے کی قومی شاہراہوں، بین الاضلاعی سڑکوں اور تجارتی مراکز میں بدامنی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ مسافر کوچز، مال بردار ٹرکوں، آئل ٹینکروں اور تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ متعدد مقامات پر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، ڈرائیوروں اور عملے کو اغوا کیا گیا، قیمتی سامان لوٹا گیا اور تاجروں و ٹرانسپورٹرز کو کروڑوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑے، مگر اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی مثر اور سنجیدہ اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ زیارت، ہرنائی، قلعہ عبداللہ، چمن، ژوب، شیرانی، لورالائی، مستونگ، قلات تا کراچی، کوئٹہ تفتان، نوشکی تا تفتان، کوئٹہ سبی تا جیکب آباد، کوئٹہ قلعہ سیف اللہ تا ژوب، لورالائی تا فورٹ منرو، کوئٹہ چمن اور دیگر تمام شاہراہوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر، ٹرانسپورٹرز اور تاجر ہر وقت خوف اور غیر یقینی کی کیفیت کا شکار رہتے ہیں۔ آئے روز پیش آنے والے دہشت گردی، اغوا، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور لوٹ مار کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے میں ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کو مسلسل بھتہ خوری، دھمکیوں اور عدم تحفظ کا سامنا ہے جس سے سرمایہ کاری کا عمل متاثر اور تجارتی سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صوبے کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا اور بے روزگاری و معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوگا۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کی جانب سے احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال کا فیصلہ ان کے جائز مطالبات اور حقیقی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، لہذا حکومت محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ قومی شاہراہوں اور اہم تجارتی راستوں پر مثر سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جائے۔ پریس ریلیز میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ شاہراہوں کی سیکیورٹی کو مثر بنایا جائے، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، جلائی گئی گاڑیوں، تباہ ہونے والے تجارتی سامان کا منصفانہ ازالہ کیا جائے، جبکہ اغوا شدہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے تمام جمہوری، سیاسی، عوامی اور مزدور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن، انصاف اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اس پرامن احتجاج میں بھرپور یکجتی کا اظہار کریں۔