کوئٹہ/اسلام آباد(ویب نیوز)سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پاکستان بار کونسل کے 250ویں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی بنیادی ذمہ داری نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں منظور کرنا نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور وکلا کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے، لہٰذا نئے صوبوں کا قیام ایک آئینی اور سیاسی معاملہ ہے جس پر آئین میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار تک محدود رہنا چاہیے، کیونکہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کا بنیادی کردار عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور وکلا کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ ان سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وکلا کی نمائندہ تنظیموں کو غیر آئینی اور غیر متعلقہ معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور پاکستان بار کونسل کو کسی صورت اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم معاملے پر قومی سطح پر سیاسی اور آئینی اتفاق رائے ضروری ہے اور اس حوالے سے ہر فیصلہ آئین اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
