مقامی ۳۰ اگست ۲۰۲۶

سندھ پولیس کی چیک پوسٹیں بلوچستان کے مسافروں کے لیے وبالِ جان بن گئیں

نصیرآباد (ویب نیوز) ڈیرہ اللہ یار کے قریب سندھ کے ضلع جیکب آباد کی حدود میں قائم پولیس، اینٹی نارکوٹکس اور دیگر فورسز کی چیک پوسٹیں امن و امان کے تحفظ کے بجائے بلوچستان سے آنے والے مسافروں کے لیے مشکلات کا باعث بننے لگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جیکب آباد بائی پاس شمبے شاہ چیک پوسٹ اور عمرانی لاڑو چیک پوسٹ پر بلوچستان سے آنے والی گاڑیوں کو روک کر تلاشی کے نام پر مبینہ طور پر مسافروں کو ہراساں اور تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں کو گاڑیوں سے اتار کر بدسلوکی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ بعض چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکار اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کسٹم، ایکسائز اور اینٹی نارکوٹکس کے امور بھی انجام دے رہے ہیں اور مسافروں سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقم وصول کی جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق اگر کوئی شخص سول لباس میں ملبوس اہلکاروں سے اس حوالے سے سوال کرے تو اسے مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جعفرآباد اور نصیرآباد کے صحافیوں کی جانب سے متعدد بار ان واقعات کی نشاندہی کیے جانے کے باوجود، شہریوں کے مطابق ایس ایس پی جیکب آباد اور ڈی آئی جی کی جانب سے تاحال مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ عوامی و سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض چیک پوسٹوں پر مبینہ طور پر بھتہ وصولی کا سلسلہ جاری ہے اور کرپٹ عناصر اپنے مفادات کے لیے مسافروں کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی عزت، جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔