تازہ ترین ۷ جون ۲۰۲۶

سردار اختر جان مینگل کی زیرِ صدارت 10 جون کو صوبہ بھر میں شٹر ڈان ہڑتال کا اعلان کردیا

خضدار(یو این اے)بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی)کی مرکزی کابینہ اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس پارٹی کے مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل کی زیرِ صدارت وڈھ میں منعقد ہوا، جس کی کارروائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر احمد شاہوانی نے چلائی۔ اجلاس میں 2 جون کو ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں پارٹی کے مرکزی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر فورسز کے چھاپے، میر خلیل موسیانی اور عمیر سمالانی کے قتل، اور صوبے بھر میں سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈان اور فورتھ شیڈول کے بے دریغ استعمال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ بی این پی نہ خوف کو قبول کرتی ہے اور نہ ہی خاموشی کو، اور انصاف کے حصول تک یہ جدوجہد ہر جمہوری محاذ پر جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں طے پایا کہ فورسز کی جانب سے بغیر کسی قانونی وارنٹ یا عدالتی حکم کے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے، میر زہری خان موسیانی سمیت دیگر افراد کی غیر قانونی حراست اور دہرے قتل کے واقعات کے خلاف اعلی عدالتی سطح پر منظم قانونی چارہ جوئی کے لیے ایک مضبوط لیگل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ اس ریاستی روش کے خلاف مشترکہ سیاسی تحریک منظم کی جا سکے۔ اجلاس میں باقاعدہ فیصلہ کیا گیا کہ اس تحریک کے پہلے مرحلے میں 10 جون کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈان ہڑتال کی جائے گی جس کے بعد احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔بی این پی کے رہنماں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2 جون کو فورسز نے سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزند میر خلیل موسیانی کو گولی مار کر شہید کیا اور حراست میں موجود اہلِ خانہ کو جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاشقند معاہدے اور آئینِ پاکستان کی رو سے زیرِ حراست افراد بشمول ثنا اللہ، ارشاد احمد، دوست محمد، امید علی، سلیم، شکر خان اور اسامہ کو فوری رہا کیا جائے۔ اجلاس نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور بین الاقوامی اداروں سے اس سنگین صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی قائدین ایڈووکیٹ ساجد ترین، آغا حسن بلوچ، ڈاکٹر عبدالقدوس کرد، میر اختر حسین لانگو، احمد نواز بلوچ، موسی بلوچ، شکیلہ نوید دہوار اور بی ایس او کے صمند بلوچ سمیت دیگر اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔