کوئٹہ(ویب نیوز) اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی 43 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی، جس میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کو اسپتال کی واضح انتظامی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فائر سیفٹی کی خامیوں کی پہلے ہی نشاندہی کی جاچکی تھی، تاہم مؤثر حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق آگ ایئر کنڈیشنر نمبر دو کی برقی کیبل میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور جان بوجھ کر آگ لگانے یا آکسیجن لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ دس بستروں کی نرسری میں گنجائش سے زیادہ 15 نومولود زیر علاج تھے، جن میں بیشتر آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، جبکہ ہنگامی انخلا کا مناسب نظام، اسپنکلر، مؤثر الارم اور خودکار فائر ڈیٹیکشن سسٹم موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بیرونی امداد طلب کرنے میں تاخیر بھی نقصان کی بڑی وجہ بنی، جبکہ فرنٹ لائن طبی عملے نے بچوں کو بچانے کے لیے بہادری سے کوششیں کیں۔ نرس رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکالا اور دیگر بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے بیرونی امداد طلب کرنے میں تاخیر، برقی دیکھ بھال اور کنٹریکٹرز کے کردار کی مزید فوجداری تحقیقات اور تمام اسپتالوں کے فوری فائر و برقی سیفٹی آڈٹ کی سفارش کی ہے۔
