تازہ ترین ۱۲ جولائی ۲۰۲۶

سانحہ زیارت کے خلاف دھرنا جاری، حکومتی نااہلی پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا شدید اظہار برہمی

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
سانحہ زیارت کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور افسران کو بے سروسامانی کی حالت میں مانگی ڈیم بھیج کر دہشت گردوں کے حوالے کر دیا گیا۔ پشتون قوم کو نہ چھیڑا جائے، اس قوم کی ہزاروں سالہ تاریخ انتہائی جرات مندانہ ہے، یہ قوم اپنا اور اپنے وطن کا دفاع خوب جانتی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کو طاقتور بنانے میں پوشیدہ ہے۔ جب ہمارے ادارے اسمبلیوں کے انتخابات کو منڈی بنا دیں اور کروڑوں روپے میں ایک سیٹ بیچی جائے تو ملکی حالات اسی طرح گھمبیر ہوں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ زیارت کے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا۔ بغیر ہتھیار اور اسلحہ کے پولیس کو مانگی بھیجنے والے ڈی سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک سب قاتل ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سرفراز بگٹی حکومت مستعفی ہو، اس حکومت کو گھر جانا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کے پاس بات چیت کا کوئی اختیار نہیں، یہ بے اختیار حکمران ہیں، ان سے بات نہیں ہوگی۔ ہمارے بچے اتنے سستے نہیں کہ انہیں اس طرح قتل کیا جائے۔ جنہوں نے ان پولیس اہلکاروں کو بھیجا تھا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے تھا، بصورت دیگر ذمہ داروں کو انہیں برطرف کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ہمارے بچوں کو شہید کیا گیا پھر ان پر تیزاب ڈالا گیا، اس کا حساب دینا ہوگا۔ بلوچ عوام سے بات چیت کے بعد احتجاج کو مزید وسعت دیں گے، یہ دھرنا جاری رہے گا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چمن سرحد پر تجارت بند ہے، وہاں کے عوام کو بھی مشاورت سے دوبارہ دھرنا شروع کرنا چاہیے۔ ہماری تجویز ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کا اقوام متحدہ کی قیادت میں اجلاس طلب کرے، اگر افغانستان پر دہشت گردی ثابت ہوئی تو ہم سب آپ کے ساتھ ہوں گے، تاہم ہمسایہ کی آزادی کا خیال رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لاشیں جس انداز میں کوئٹہ لائی گئیں، اس طرح تو کوئی قصاب بھی بکروں کے ساتھ سلوک نہیں کرتا، ان سب کا حساب ان لوگوں کو دینا ہوگا۔ پشتونخوا وطن پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ 50 لاشیں بھیج کر ہمیں اتنا بے غیرت سمجھا گیا ہے کہ ہم پیسوں پر بک جائیں گے۔ اگر لواحقین کو ضرورت ہے تو قوم یہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے خود لواحقین کو دے گی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کا پیغام لے کر آیا ہوں، اپوزیشن قیادت آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ دھرنا تاریخ دے، پورے پاکستان میں احتجاج ہوگا۔ میری تجویز ہے کہ یہ دھرنے ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے ہونے چاہئیں۔