کوئٹہ (سید سردار محمد خوندئی) گزشتہ دنوں ضلع زیارت کے علاقے مانگی ڈیم میں پولیس سیکیورٹی کیمپ پر مبینہ دہشت گردوں کے حملے اور اگلے روز اغواء کیے گئے پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ کے خلاف کوئٹہ کی مرکزی شاہراہ پر گزشتہ پانچ روز سے پولیس شہداء کے جسد ہائے خاکی کے ساتھ احتجاجی دھرنا جاری ہے۔
دھرنے میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجر برادری اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد شریک ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات کی روک تھام کے لیے مکمل اقدامات کیے جائیں، شہید پولیس اہلکاروں کو انصاف فراہم کیا جائے اور واقعہ کی آزاد عدالتی کمیشن کے ذریعے شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے ہفتہ کے روز دھرنے میں شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے ہمیشہ مظلوم عوام کے خون پر حکمرانی کی ہے، یہاں معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے نام نہاد دہشت گردی کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔ ہم اس غم کی گھڑی میں پشتون قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دھرنے سے مظلوم اولسی تحریک کے سربراہ صادق خان اچکزئی، عبدالرحیم زیارتوال، نصراللہ خان زیرے، حافظ حمد اللہ، اصغر خان اچکزئی سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔
