تازہ ترین ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

زیارت سانحہ کے خلاف دھرنا بدستور جاری، چمن سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے

چمن (سید سردار محمد خوندئی) زیارت سانحے کے شہداء کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ حکومتی کمیٹی اور دھرنا کمیٹی کے درمیان بعض نکات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ گزشتہ رات ہونے والے مذاکرات کا دور بغیر کسی اعلامیہ کے ختم ہو گیا، تاہم مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
گزشتہ روز دھرنے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، پشتون ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، نصراللہ خان زیرے، عادل خان بازئی، بلوچستان کے ممتاز ادیب و صحافی سید انور شاہ سمیت تاجر برادری، وکلاء برادری اور ہزارہ برادری کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ زیارت کے خلاف جاری دھرنا تمام مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی میتیں دھرنے میں رکھ کر انتہائی ہمت و بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ قربانی ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دی گئی ہے۔
دریں اثناء کوئٹہ میں جاری مرکزی دھرنے کی حمایت میں سرحدی شہر چمن سمیت بلوچستان کے مختلف پشتون و بلوچ اضلاع میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور امن و امان کے قیام اور دھرنے کے تمام مطالبات فوری تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دھرنا کمیٹی کی جانب سے 17 جولائی کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔