کراچی: ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت آنا صرف معذوری نہیں بلکہ جان لیوا صورتحال بھی ہوسکتی ہے۔ کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس برائے ذیابیطس و ڈائبیٹک فٹ میں ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے باعث پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہونے والے تقریباً نصف مریض تین سال جبکہ 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، پاؤں کی باقاعدہ دیکھ بھال، انفیکشن کا فوری علاج اور خون کی شریانوں میں روانی بحال کرکے بڑی تعداد میں مریضوں کو اعضا کٹوانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 20 سے 79 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں میں اعصابی کمزوری اور خون کی شریانوں کی بیماری کے باعث معمولی زخم بھی انفیکشن، گینگرین اور بالآخر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ پروفیسر زاہد میاں نے ذیابیطس کے پاؤں کے زخموں کے مریضوں کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن 03306666774 شروع کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اس شعبے میں ملک کا پہلا دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ جنوری 2027 سے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
