کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
ڈیرہ بگٹی: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنے آبائی علاقے شمالی ڈیرہ بگٹی پہنچ گئے، جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین اور اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کی۔ انہوں نے روایتی بلوچی انداز میں حال احوال دریافت کیا اور علاقائی صورتحال سمیت عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔
وزیر اعلیٰ نے عوام میں گھل مل کر مختلف محکموں سے متعلق شکایات سنیں اور متعدد عوامی مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو حل کے لیے احکامات جاری کیے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ افسران اور سرکاری اہلکار عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور شہریوں کے مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں۔ عوامی مسائل کا مقامی سطح پر فوری حل انہیں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ آنے کی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں نظام حکومت کو بہتر بنا کر عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے لیے مؤثر طریقہ کار مرتب کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر میسر ہوں تاکہ انہیں معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے طویل سفر نہ کرنا پڑے۔
تعلیم کے شعبے میں حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بند پڑے سینکڑوں اسکولوں کو کھول کر عملی طور پر فعال کیا گیا ہے۔ تعلیم ہی ملک، قوم اور خاندانوں کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت بلوچستان کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں صوبے میں امن کی ضامن ہیں۔ دہشت گرد نہتے اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا کر انسانیت سے عاری ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ جشن آزادی کی خوشیوں میں ہم اپنے عظیم شہداء کو نہیں بھولے، پاکستان کے دفاع، سلامتی اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پوری قوم کا فخر ہیں اور ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
اس موقع پر قبائلی عمائدین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ شمالی ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر دور افتادہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کا آغاز موجودہ حکومت کا اہم اعزاز ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی حکومتی اقدامات کے ثمرات نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔
