مقامی ۱۶ ستمبر ۲۰۲۶

حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے بدامنی اور دہشتگردی کی طرف دھکیل رہی ہے، اراکین بلوچستان اسمبلی

کوئٹہ (ویب نیوز) اراکین بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری، میر زابد علی ریکی اور مولانا نور اللہ نے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں 5 ہزار سے زائد آسامیوں کے خاتمے کے مبینہ حکومتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم کرنا ان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے، جبکہ بارڈرز کی بندش، کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ پنجاب شاہراہوں پر عدم تحفظ اور آٹے، کھاد اور گندم کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار سے محروم کرنے کے بعد انہیں بدامنی اور دہشتگردی کی جانب دھکیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس کی ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا ہوگی۔ اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی 5 ہزار سے زائد آسامیوں کو ختم کرنے کے بجائے برقرار رکھا جائے اور اگر موجودہ محکمے میں ان کی ضرورت نہیں تو انہیں دیگر سرکاری محکموں میں منتقل کرکے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، کیونکہ سرکاری آسامیوں میں کمی بلوچستان کے نوجوانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی۔ اراکین اسمبلی نے بلوچستان کے عوام اور نوجوانوں کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے آسامیوں کے خاتمے کے مبینہ حکومتی اقدام کی بھرپور مذمت کی۔