پاکستان ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶

حکومت منافع بخش پی ایم ڈی سی کو نجکاری کی فہرست سے نکالے، سعید اللہ کاکڑ

کوئٹہ (ویب نیوز) آل پاکستان پی ایم ڈی سی ایمپلائز یونین ہیڈ آفس اسلام آباد، پی ایم ڈی سی ایمپلائز اینڈ ورکرز یونینز (سی بی اے) سورنج، ڈیگاری اور شاہرگ کے عہدیداروں نے پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کو منافع بخش قومی ادارہ اور قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس کی نجکاری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرانے والے ادارے کو فوری طور پر نجکاری کی فہرست سے نکالا جائے، رائلٹی کی بنیاد پر دی گئی مائنز کی لیز کا ازسرنو جائزہ لے کر غیر ضروری لیز منسوخ کی جائیں اور پی ایم ڈی سی کو کمزور کرنے کی کوششوں کا فوری سدباب کرتے ہوئے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں۔ پی ایم ڈی سی ایمپلائز یونین (سی بی اے) سورنج کے صدر سعید اللہ کاکڑ، پی ایم ڈی سی ایمپلائز اینڈ اسٹاف یونین شاہرگ کے صدر محمد نعیم، پی ایم ڈی سی ورکرز یونین ڈیگاری کے صدر سفر محمد مری، آل پاکستان پی ایم ڈی سی ایمپلائز یونین ہیڈ آفس اسلام آباد کے آفس سیکرٹری آصف شاہ سمیت دیگر ٹریڈ یونین رہنماؤں نے سورنج کے کول مائننگ علاقے میں علی بھائی کول کمپنی میں پیش آنے والے المناک حادثے، جس میں 34 کان کن جاں بحق ہوئے تھے، سے متعلق انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مائنز سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک عرصے سے پی ایم ڈی سی جیسے منافع بخش قومی ادارے کو کمزور کرکے ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی بھائی مائن حادثے کی انکوائری میں پی ایم ڈی سی کو بلاجواز اور غیر ضروری طور پر شامل کیا جارہا ہے، جو ادارے کو بدنام کرکے نجکاری کا عمل شروع کرانے کی سازش ہے۔ یونین رہنماؤں کے مطابق پی ایم ڈی سی شاہرگ میں اس وقت سینکڑوں ٹھیکیدار کام کررہے ہیں، بعض لیزیں منسوخ کیے جانے پر ٹھیکیداروں نے عدالتوں سے رجوع کیا، جبکہ دوسری جانب بعض لیزیں رائلٹی کی بنیاد پر انہی ٹھیکیداروں سے واپس لی جاتی ہیں اور لیز واپس نہ کرنے کی صورت میں قبائلی تنازعات بھی جنم لیتے ہیں، جس سے قومی ادارے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے لیز پر الاٹ کردہ کانوں میں حادثات کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے، جو کان کنوں کی صحت و سلامتی کے لیے مناسب اقدامات کا پابند ہے۔ یونین رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ علی بھائی مائن حادثے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اصل ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور ملک بھر کی تمام کانوں میں کان کنوں کی صحت و سلامتی کے اقدامات کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر مائنز انسپکشن کو یقینی بنایا جائے۔