کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اصغر خان اچکزئی، نصراللہ خان زیرے، آغا محمود شاہ اور نور خان ناصر نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی کے ایسے عذاب میں مبتلا کر رہی ہے جس سے غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ عوام کی جیب پر براہِ راست اضافی بوجھ ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز سمیت زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔ ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مہنگائی، ٹیکسوں، اسپیئر پارٹس، ٹائروں اور مرمت کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہیں، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے باعث مسافر گاڑیاں چلانا معاشی طور پر انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ بڑھتے اخراجات کے باعث کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام مسافروں پر پڑتا ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو ٹرانسپورٹرز گاڑیاں سڑکوں سے ہٹانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو معاشی بحران کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے غیرضروری سرکاری اخراجات، شاہانہ مراعات اور فضول خرچیوں میں کمی لانی چاہیے۔ اگر حکمران معاشی اصلاحات میں سنجیدہ ہیں تو قربانی کا آغاز عوام سے نہیں بلکہ حکمران طبقے سے کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ فوری روکا جائے، عوام اور ٹرانسپورٹرز کو حقیقی ریلیف دیا جائے اور ایسی مؤثر معاشی پالیسی اختیار کی جائے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔
