اسلام آباد (ویب نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے شاید حکومت بچانے اور بجٹ پاس کرانے کے لیے گلگت بلتستان میں ان کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کا ورکنگ ریلیشن شپ اب شاید صرف وزیراعظم کی حد تک محدود ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور انہوں نے کسی بھی انتخابی جلسے میں وزیراعظم یا صدر آزاد کشمیر کو اپنے ساتھ نہیں لے کر گئے کیونکہ پیپلز پارٹی شفاف انتخابات پر یقین رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، آزاد کشمیر میں انتخابی مہم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور ن لیگ نے انتخابی دھاندلی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مبینہ دھاندلی کی ویڈیوز سمیت شواہد موجود ہیں اور ن لیگ کو ان کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی ن لیگ نے مبینہ طور پر دھاندلی کی کوشش کی تھی، تاہم اسے بے نقاب کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
