پاکستان ۳۰ اگست ۲۰۲۶

جنوبی پشتونخوا جرگہ آج سے کوئٹہ میں، اہم فیصلے متوقع

کوئٹہ(ویب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ جنوبی پشتونخوا کی موجودہ سیاسی، آئینی، معاشی اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر سے یکم ستمبر تک کوئٹہ میں منعقد ہونے والا جرگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل، آئینی و سیاسی حقوق، امن و امان، قدرتی وسائل پر مقامی اقوام کے حق، سرحدی تجارت اور جمہوری و پارلیمانی نظام کے استحکام کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔ پشتون علاقوں میں دہشت گردی، بدامنی، اغوا برائے تاوان، چوری اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم نے عوام کی جان و مال اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ بین الصوبائی و بین الاقوامی شاہراہیں اور ڈیورنڈ لائن پر قانونی تجارت و آمدورفت بھی مشکلات کا شکار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قدرتی وسائل اور مائنز اینڈ منرلز قوانین میں تبدیلیوں کے نتیجے میں مقامی اقوام و قبائل کے حقوق نظرانداز کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر قانونی انتقالات منسوخ کرنے اور مقامی آبادی کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کول مائنز میں مبینہ جبری بھتہ خوری، مائن اونرز اور مزدوروں کو لاحق خطرات، مزاحمت پر قتل اور ٹرانسپورٹ جلانے کے واقعات کے خاتمے اور زیارت، منگلہ و ہنہ اوڑک سمیت مختلف واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے ذریعے قائم غیر نمائندہ پارلیمانی بندوبست، آئینی ترامیم، صوبائی خودمختاری، عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنے والے اقدامات جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ملک کو آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، وفاقی اصولوں اور شفاف حکمرانی کی بنیاد پر دوبارہ استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ جرگہ تمام مسائل پر غور کے بعد عوامی حقوق، آئینی بالادستی، امن و امان، وسائل پر مقامی حق، سرحدی تجارت اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے واضح اور قابل عمل سفارشات پیش کرے گا۔