مقامی ۲ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان کے 70 فیصد علاقے خشک سالی کا شکار، مون سون بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان

کوئٹہ پاکستان محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں مون سون سیزن کے دوران بلوچستان میں معمول سے کم بارشیں ہوں گی جبکہ صوبے کے تقریباً 70 فیصد علاقے شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔ محکمہ کے مطابق مون سون کے اثرات زیادہ تر مشرقی اور شمال مشرقی اضلاع تک محدود رہیں گے، جبکہ کوئٹہ، چاغی، نوشکی، خاران، واشک، پنجگور، کیچ، گوادر، پشین، مستونگ، قلات، خضدار اور دیگر کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کی توقع ہے۔ کم بارشوں اور شدید گرمی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ کاریز، چشمے اور چھوٹے آبی ذخائر خشک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک سالی زراعت، مویشی بانی، قدرتی چراگاہوں اور پینے کے پانی کے وسائل کو شدید متاثر کر رہی ہے، اور اگر آئندہ ہفتوں میں خاطر خواہ بارش نہ ہوئی تو فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کے لیے پانی و خوراک کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے ہنگامی امدادی پروگرام، نئے آبی ذخائر، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے اور کسانوں و مالداروں کے لیے خصوصی مالی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ عوام کو پانی کے محتاط استعمال اور جدید آبپاشی طریقے اپنانے کی تلقین کی گئی ہے۔