تازہ ترین ۲ نومبر ۲۰۲۶

بلوچستان کے سرکاری کھاتوں میں 7 ارب 71 کروڑ روپے کا فرق، آڈٹ اعتراضات نمٹانے کے لیے ڈیڑھ ماہ کی مہلت

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا نئی اسمبلی عمارت میں پہلا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سرکاری مالیاتی حسابات اور بیوٹمز کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ 30 جون 2023 تک صوبائی مالیاتی گوشواروں میں متعلقہ کھاتوں کا بیلنس 23 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد تھا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ میں یہ رقم تقریباً 15 ارب 29 کروڑ روپے تھی، یوں دونوں ریکارڈز میں 7 ارب 71 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا۔ آڈٹ حکام نے اس کی وجوہات میں ریکارڈ کی ناقص دیکھ بھال، غیر ادا شدہ چیکس کی عدم اندراج اور بینک کھاتوں کی بروقت مطابقت نہ ہونا بتایا۔ کمیٹی نے محکمہ خزانہ کو اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے ساتھ کھاتوں کی مطابقت کا مستقل نظام قائم کرنے اور تمام زیر التوا آڈٹ اعتراضات ڈیڑھ ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بیوٹمز کے 63 بیرون ملک پی ایچ ڈی اسکالرز میں سے صرف 12 کی واپسی اور 11 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی ممکنہ وصولی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والے اسکالرز سے اخراجات اور جرمانے وصول کیے جا سکتے ہیں۔ مزید برآں 2019 سے 2021 کے دوران اضافی چارج الاؤنس کی مد میں 36 لاکھ 4 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کا انکشاف ہوا۔ کمیٹی نے مالیاتی نظم و ضبط، رقوم کی وصولی اور ذمہ داروں کے تعین پر زور دیا۔