پاکستان ۳۱ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان کے ساحل پر اسٹنگ رے کا بڑے پیمانے پر شکار، سمندری حیات کو خطرہ

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر معظم خان نے خبردار کیا ہے کہ کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اسٹنگ رے، جسے مقامی طور پر پیٹن کہا جاتا ہے، کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جا رہا ہے، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برس میں اسٹنگ رے کے پروں کی برآمد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اس کے شکار میں بھی تیزی آئی ہے، جبکہ چیتے جیسے نشانات رکھنے والی بعض اقسام کو مقامی سطح پر معدومیت کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اسٹنگ رے کا گوشت پاکستان میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتا تاہم اسے تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا برآمد کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بے دریغ شکار سے سمندری ایکو سسٹم کا توازن متاثر ہوسکتا ہے، اس لیے شکار اور تجارت کی مؤثر نگرانی اور مناسب انتظام ناگزیر ہے۔