کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان کی 12 جیلوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار 757 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم اس وقت 2 ہزار 925 قیدی موجود ہیں، جس کے باعث گنجائش سے 168 قیدی زیادہ ہیں۔ جیل ذرائع کے مطابق کوئٹہ اور گڈانی جیل میں قیدیوں کی تعداد مقررہ گنجائش سے تجاوز کرچکی ہے، ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں 470 قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں تقریباً 950 قیدی موجود ہیں جبکہ گڈانی جیل میں 300 کی گنجائش کے مقابلے میں 350 سے زائد قیدی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کوئٹہ جیل میں 11 کم عمر بچے بھی قید ہیں، قیدیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر حکومت کی جانب سے نئی بیرکس کی تعمیر کے لیے اقدامات جاری ہیں، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد کوئٹہ جیل میں قیدیوں کی گنجائش تقریباً 2 ہزار 500 ہوجائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ضمانت پر رہائی کے باعث تعداد میں کمی بھی آتی ہے، تاہم بعض جیلوں میں گنجائش کے مقابلے میں قیدیوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ دوسری جانب ملک بھر کی جیلوں میں بھی گنجائش سے زائد قیدیوں کا مسئلہ برقرار ہے، دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کی جیلوں میں تقریباً 64 ہزار قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں ایک لاکھ 10 ہزار کے قریب قیدی موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد زیرِ سماعت مقدمات کے قیدیوں کی ہے۔ پنجاب کی 45 جیلوں میں تقریباً 38 ہزار قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں 70 ہزار کے قریب قیدی موجود ہیں، جن میں صرف تقریباً 16 ہزار سزا یافتہ جبکہ بڑی تعداد زیرِ سماعت مقدمات کے قیدیوں کی ہے۔ سندھ کی 23 جیلوں میں 14 ہزار کی گنجائش کے مقابلے میں تقریباً 25 ہزار قیدی موجود ہیں، جن میں سے صرف 4 ہزار کے قریب سزا یافتہ ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی 39 جیلوں میں 11 ہزار 382 قیدی موجود ہیں اور ان میں صرف تقریباً 2 ہزار سزا یافتہ ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی ایک اہم انتظامی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے حل کے لیے نئی بیرکس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ زیرِ سماعت مقدمات کو جلد نمٹانے اور غیر ضروری طور پر طویل حراست کے خاتمے کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
