کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ایرانی پٹرول کی پاکستانی پٹرول کے برابر قیمت پر فروخت ہونے کی اطلاعات پر عوام میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب لوگ مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بھی عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے رہائشیوں کے مطابق ایرانی پٹرول طویل عرصے سے نسبتاً سستے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اب بعض علاقوں میں اسے بھی پاکستانی پٹرول کے برابر یا قریباً اسی نرخ پر فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کو سستے ایندھن کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بازاروں میں پاکستانی اور ایرانی پٹرول کی قیمتوں کی فوری نگرانی کی جائے اور اگر ایرانی پٹرول کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے تو اسے عوام کو مناسب اور قابلِ برداشت نرخ پر فراہم کیا جائے۔ عوام نے ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، سبزیوں، دودھ، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے عام لوگوں کی معاشی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی تک محدود رہنے کے بجائے مختلف علاقوں میں ایرانی پٹرول کی خرید و فروخت، معیار، نرخوں اور منافع کے معاملات کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ یا تو ایرانی پٹرول مناسب اور سستے نرخوں پر فروخت کرنے کا انتظام کیا جائے یا پاکستانی پٹرول کے برابر قیمت پر ایرانی پٹرول فروخت کرکے ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں کے معاملے کا فوری نوٹس لے کر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔
